تازہ ترین

عمرانیا ت

عمرانیا ت

پروفیسر منور علی ملک

۱۔ تعریف
۲۔ تفاعل
۳۔ سماجی عمل
۴۔ سماجی تفاعل اور سماجی عمل کا فرق
۵۔ سماجی تفاعل کا عمل
۶۔ مفاہمت
۷۔ انجذاب
۸۔ ثقافت پزیری
۹۔ مسابقت
۱۰۔ قطعی مسابقت
۱۱۔ اضافی مسابقت
۱۲۔ شخصی مسابقت
۱۳۔ تصادم
۱۴۔ تصادم اور مسابقت
۱۵۔ تعاون اور تصادم
۱۶۔ مفاہمت یا مصالحت
۱۷۔ صلح
۱۸۔ سمجھوتہ
۱۹۔ فاتح اور مفتوح کا معاہدہ
۲۰۔ ثالیثیت
۲۱۔ برداشت
۲۲۔ عمرانیات کا اطلاق اور افادیت
۲۳۔ صنعتی تعلقات
۲۴۔ بہبودِ اسیران
۲۵۔ تعلیم اور تحقیق
۲۶۔ معالجاتی عمرانیات
۲۷۔ زراعت
۲۸۔ تجارت اور کاروبار
عمرانیات معاشرتی علوم (Social Science)کی سب سے جامع شاخ ہے ۔ جسے سادہ ترین الفاظ میں انسان کی معاشرتی زندگی کا مطالعہ کہا جاسکتا ہے ۔ ایک باضابطہ سائنس کی شکل میںتو اسے فرانسیسی مفکر Augast Comte نے 1834 ئ؁ میں متعارف کر وایا ۔ مگر بہت عرصہ قبل مسلمان مئورخ ابن خلدون نے علم العمران ، کے نام سے اس کی بنیاد رکھ دی تھی ۔ ابن خلدون نے کہا کہ انسان کی معاشرتی زندگی کے مطالعہ کے لئے تاریخ کے علاوہ ایک وسیع تر باقاعدہ علم کا حصول ضروری ہے ۔ ابن خلدون سے پہلے بھی متعدد مفکرین، مثلاً ارسطو، الفارابی ، ابن سنیا ، الرازی اور کنیفیو شس وغیرہ نے معاشر تی زندگی کے مطالعہ پر زور دیا ، مگر ایک باضابطہ علم کا تصور ا بن خلدون ہی نے پیش کیا ۔
تعریف:۔ مختلف ماہرین عمرا نیات نے اپنے اپنے انداز میں عمرانیات کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اگرچہ ان میں لے کو ئی تعریف بھی عمرانیات کا جامع متعارف نہیںکہلا سکتی ، تاہم، ان تمام کو ملا کر دیکھا جائے تو عمرانیات کے بنیادی خدو خال کا تصور و اضح ہوجاتا ہے ۔ ان میںسے چند اہم تعر یفیں درج ذیل ہیں ۔
W.G. Summer نے عمرانیات کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
Sociologyis the Science of Society
(عمرانیات معاشرے کا سائنسی مطالعہ ہے)
یہ تعریف علم عمرانیات کی حدود کا تعین نہیں کرتی ۔
Max Weber کا کہنا کہ
Sociology is the study of social Action
(عمرانیات معاشرتی عمل کا مطالعہ ہے)
اس تعریف میں معاشرتی عمل کا تصور واضح کیا گیا ۔
Alex Inkles کا خیال کہ
Socilogy is the study of order and disordery
عمرانیات منضبط اور غیر منضبط عمل کا مطالعہ ہے
اگرچہ یہ تعریف بھر عمرانیات کی وسعت کامکمل احاطہ نہیںکرتی ، تاہم اس میں معاشرتی عمل کامکمل تصور موجود ہے ۔
Park and burguss نے عمرانیات کی تعریف ان الفاظ میںکی ہے ۔
Socilogy is the study of collection behaviour
عمرانیات اجتماعی اطرز عمل کا مطالعہ ہے
یہ تعریف بھی سطحی حد تک عمرانیات کے خدوخال کا احاطہ کر تی ہے ۔
Talcott Parsns
Socology is the scientific study of structure and functions of Human groups
عمرانیات انسانی جمعیتوں کی ساخت اور وظائف کا مطالعہ ہے۔
یہ تعریف منظم طرز عمل کا احاطہ تو کرتی ہے۔ مگر عمرانیات میں غیر منظم طرز عمل کا مطالبہ بھی شمال ہے ۔ اگر چہ شامل بالا تعریفوں میںسے کوئی بھی عمرانیات کی مکمل تعریف نہیںکہلا سکتی ، تاہم انسے عمرانیات کے درج ذیل نمایاں خدو خال واضح ہو جا تے ہیں۔
۱۔ عمرانیات انسان کی معاشرتی زندگی کا مطالعہ ہے۔
۲۔ عمرانیات اجتماعی طرز عمل کا سائنسی انداز میں مطالعہ ہے۔
۳۔ عمرانیات معاشرتی تعلقات کا تجزیاتی مطالعہ ہے ۔
۴۔ عمرانیات معاشرتی زندگی سے مسائل کا تجزیہ اور ان کا حل سائنسی انداز میں پیش کرتی ہے ۔ مجموعی طورپر عمرانیات کو معاشرتی تفاعل۔ social Interaction کا مطالعہ کہنا منا سب ہوگا ۔ یہ مطالعہ تین سطحوں پر کیا جاتا ہے ۔
۱۔ فرد اورفرد کے درمیان تفاعل Interaction between two individuals
۲۔ فرد اور جمعیت کے درمیان تفاعلInteraction between individual and group
۳۔ جمعیت گردہ اور جمعیت کے درمیان تفاعل Interaction between groups تفاعل جسمانی بھی ہوسکتا ہے۔ اور طرز عمل یا نظریات کے مابین بھی ۔ عمرانیات کا تعلق طرز عمل او رنظریات سے ہے ۔
سماجی تفاعل افراد کے باہمی انصار Interdependence کی وجہسے انسانکی ایک ناگزیر ضرورت ہے سماجی تفاعل ہمیشہ با مقصد اور نیتجہ خیز ہوتا ہے۔
سماجی عمل
سماجی عمل سے مراد کسی مقصد کے لئے کچھ افراد کی مشترک کوشش ہے ۔ ماہر عمرانیات Parsons نے سماجی کے پانچ عناصر کی نشان دہی کر کے سماجی کے تصور کو واضح کیا ۔
وہ پانچ عناصر درج ذیل ہیں۔
۱۔ عامل Actor ۔۔۔ عمل کرنے والا فرد
۲۔ مقصدPurpose ۔۔۔۔ عمل کرنے والے کی منزل
۳۔ سماجی حالت Social Situation ۔۔۔۔ جس صورت حال میں عامل کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے کام کرتا ہے ۔ اسے سماجی حالت کہا جاتا ہے ۔
۴۔ معاشرتی اصول Social Norms ۔۔۔۔ ہر سماجی عمل بعض سماجی اصولوںکے تحت سراجام پاتا ہے ۔ یہ اصول معمول پر مبنی ہوتے ہیں ۔
۵۔ قوت کا اصراف: Use of energy ۔۔۔ قوت کسی بھی صورت میںکوشش کا دوسرا نام ہے ۔
سماجی تفاعل اور سماجی عمل کا فرق
سماجی تفاعل سے ایک نئی سماجی حالت وجود میںآتی ہے ۔ یعنی فاعلین کے خیالات اور طرز عمل میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔ سماجی عمل سے مشترکہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے ۔ مگر قاعلین کے خیالات اور طرز عمل میں تبدیلی ضروری نہیں۔ مثلاً بس کو اسٹارٹ کرنے کے لیے تمام مسافر مل کر دھکالگا تے ہیں اس سے بس تو اسٹارٹ ہو جاتی ہے۔ مگر افراد کی نفرادیت بر قرار رہتی ہے ۔
سماجی تفاعل کا عمل
Process of Social Interaction سماجی یا معاشرتی تفاعل دوطرح کا ہوتا ہے ۔ اوّل تعارنی ، دوم تصادمی ان دونوں صورتوں کی مزید وضاحت درج ذیل شکل سے کی جاسکتی ہے ۔
تعاون مختلف صورتوں میںہوتا ہے۔ رسمی تعاون یا باقاعدہ تعاون کچھ طے شدہ اصولوں کے تحت کسی تنظیم کی صورت میںہوتا ہے۔ مثلاً ایک دفتر کے لوگوں کاآپس میں تعاوں یا ٹریڈ یونین کے ارکان کا باہمی تعاون ۔ رسمی تعاون ایک ہی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مابین ، مقررہ اصولون کے تحت چند مخصوص مقاصد کیلئے ہوتا ہے۔ غیر رسمی تعاون مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان کسی ہنگامی ضرورت کے تحت ہوتا ہے ۔ مثلاً کسی مکان یا دکان میں آگ لگ جائے تو اردگر د کے سب لوگ مل کر امدادی کاروائی کرتے ہیں۔ معاندانہ تعاون ایسا تعاون ہے جس میں افراد کا ایک گردہ اپنے مفاد کے لئے کسی دوسرے گروہ کو نقصان پہنچا کر نفع حاصل کرنے کی خاطر آپس میں تعاون کرے۔ مثلاً تاجر یا کا رخانہ دار شیاہ کی قیمتیں بڑھانے کے لئے ، اشیاء کی فراہمی روک دیتے ہیں ۔ قیمتیں بڑھنے سے انہیں تو فائدہ پہچنتا ہے مگر خریداروں کو نقصان ۔
مفاہمت:
تعاون کی صورت میں افراد یا تنظمیوں کو اپنے کچھ نہ کچھ اختلافات ختم کرنا پڑ تے ہیں۔ اس سے مفاہمت وجود میں آتی ہے ۔

ثقافت پذیر ی :
وسیع تراتحاد کا طرز عمل بالآ خراس علاقے باقوم کی ثقافت کا جزوبن جاتا ہے ۔
مسابقت :
مسابقت سماجی تفاعل کی ایک ایسی صورت ہے جس میںکسی مخصوص شعبے سے وابستہ افراد یا ادارے سے زیادہ فائدہ حاصل کرکے دوسروں آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً تاجر، کار خانہ دار یا کھلاڑی ، جب مال بیچنے والے ایک سے زیادہ ہوں تو انکے درمیان مسابقت ہوتی ہے۔ اور جب لینے والوں کی تعداد دستیاب مقدار اشیا سے زیادہ ہوتو ان کے درمیان مسابقت ہوتی ہے ۔ کسی بھی میدان میںمسابقت کی مقدار اور شدت اس میدان میں ترقی پر مخصر ہوتی ہے۔ ترقی جتنی زیادہ ہوگی مسابقت کی مقدار اور شدت بھی زیادہ ہوگی ۔ جو کاروبار بھی ترقی کر ے گا ۔ اس میں منافع زیادہ ہوگا ۔ الہذامسابقت بھی زیادہ ہوگی ۔
مسابقت درج ذیل مختلف صورتوںمیں ہوتی ہے ۔
۱۔ قطعی اور اضافی مسابقت
۲۔ شخصی اور غیر شخصی مسابقت
قطعی مسابقت
جس میدان میں پورے معاشرے میں سے صرف ایک ہی فرد کو منتخب کیاجاسکتا ہے ہو ۔ اس میدان میں مسابقت قطعی مسابقت کہلاتی ہے۔ مثلاً امریکہ کے صدر کا انتخاب تمام جمہوری ممالک مٰں صدر کا انتخاب قطعی مسابقت کی صورت میں ہوتا ہے ۔
اضافی مسابقت:
اضافی مسابقت میں مسابقت والی قدر ایک حد تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے ۔ مثلاً امتحانات اور بعض دوسرے مقابلوں میںاوّل ، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کر نے والوں کو اپنی اپنی کار کردگی کے مطابق انعام ملتا ہے ۔
شخصی مسابقت:
ذاتی مفاد کیلئے مسابقت شخصی مسابقت کہلاتی ہے ۔ مثلاً تجارت میں ہر فرد یا ادراہ اپنے مفاد کے لئے کام کرتا ہے ۔ اور دوسروں سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے
غیر شخصی مسابقت:
غیر شخصی مسابقت وہ ہوتی ہے ۔ جس میں افراد ذاتی مفاد کی بجائے اپنی ٹیم ، سیاسی جماعت یا قو م کی برتری کے لئے محنت کرتے ہیں ۔
تصادم :
تصادم مفادات یا نظریات کے تضاد سے پیدا ہوتا ہے ۔ تصادم کی صورت میں فریقین ایک دوسرے کے مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے ایٹر ی چوٹی کازور لگاتے ہیں۔ اس صورت میں جارحیت اور تشدد سے بھی گزیز نہیںکیا جاتا ۔ جنگ ، فرقہ وارانہ ، کشمکش اور مقدمہ بازی تصادم کی مختلف صورتیں ہیں۔ تصادم میںچونکہ فریق ، مخالف کو نقصان پہنچا نا رواسمجھاجا تا ہے ۔ لہذا اسے منفی تفاعل کہنا زیادہ مناسب ہے ۔
تصادم اور مسابقت:
مسابقت ایک صحت مند سر گرمی ہے کیونکہ اس میںاپنے مفاد کے لئے دوسروں کو نقصان پہنچا نا ضروری نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر فرد یا ادارہ اپنی بہتر کار کر دگیکی بنا پر سر فہرست آنے کی کوشش کرتا ہے۔ تصادم کی صورت میں فریق مخالف کو شکست دینا ہی مقصود نظر ہوتا ہے ۔ کیونکہ اپنا فائدہ دوسرے فر یق کے نقصان سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔

تعاون اور تصادم
تعاون کسی مشترک مفاد کے لئے اتحاد و اتفاق کا دوسرا نام ہے ۔ جبکہ تصادم دو متضاد مقاصد کی بنا پر افراد یا اداروں کی باہمی آویز ش سے وجود میں آتا ہے ۔
مفاہمت یا مصالحت:
سماجی تفاعل کے باعث افراد یا اداروں کے باہمی اختلافات آہستہ آہستہ کم یا بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔ اس عمل سے ایک نئی سماجی صورت حال وجود میں آتی ہے۔ فوری نوعیت کے مشترک مقاصد کے لئے بعض خصوصی اقدام کرنا ضرور ی ہوتا ہے ۔ یہ اقدام درج ذیل صورتوں میں ہوتے ہیں ۔
۱۔ صلح
اس عمل سے فوری ضرورت کے تحت اختلافات یا عدلوت کو باہمی افہما و تفہیم سے ایک معینہ یا غیر معینہ مد ت کے لئے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ صلح چند متفقہ شرائط پر مبنی ہوتی ہے ۔ اس کی بہترین مثال06 ؁ ھ میںہونے والی صلح حدیببیہ ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اہل ایمان اور کفار مکہ کے مائین ہوا ۔ کفار مکہ کی جانب سے سہیل بن امرنے قریش وفد کی قیادت گی ۔ اس موقع پر جو تحریری معاہدہ ہو اس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے ۔
’’ اے اللہ :تیرے نام سے شروع کرتاہوں
یہ معاہدہ محمدبن عبداللہ اور سہیل بن امرکے مابین طے پایا ۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دس سال تک اپنے ہتھیار امن میں رکھیںگے ۔ اس مدت میںہر فریق محفوظ رہے گا اور کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور ہمارے مابین سچائی اور احترام قائم رہے گا ۔
سمجھوتہ
یہ عمل فریقین کے مابین بعض مراعات پر اتفاق رائے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ صلح کا عمل توجنگ کو ختم کرنے کیلئے ، ہنگامی صورت حال میں ہوتا ہے ۔ مگر سمجھوتہ حالت امن میں پر امن بقائے باہمی کی خاطر کیا جاتا ہے ۔ عموماً یہ ایک تدریجی عمل ہوتا ہے ۔ جس ایک نئی سماجی حالت وجود میںآتی ہے۔
فاتح اور مفتوح کا معاہد ہ
جنگ میں شکست وفتح کا فیصلہ ہوجانے کے بعد فاتح اور مفتوح فریقین کے درمیان عموماًفاتح کی من مانی قو ہین آمیز شرائط پر ملح کا معاہد ہ ہوتا ہے ۔ اس کی ایک مثال جنگ عظیم اول کے بعد جرمنی اور اتحادیوں کے درمیان جرمنی کے لئے نہایت ذلت آمیز شرائط پر ہوا تھا ۔
ثالثیت
دو بر سرپیکار فریقن میںصلح کرانے کی کوششوںکو ثالثیت کہتے ہیں ۔ مثلاً 1965 ؁ ء کی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارکے درمیان 10 جنوری 1966 ؁ ء کو تاشقند میں جو معاہدہ ہوا تھا اس میں روس نے ثالث کا کر دار ادا کیا تھا ۔ کئی ایسی صورتوں میں انجمن اقوام متحدہ بھی ثالث کے فرائض سرانجامن دیتی ہے ۔
برداشت:
اختلاف رائے کو برداشت کرنا یاز یادتی کا انتقام نہ لینا اصطلاحاً بر داشت کہلاتا ہے ۔ اسلام بر داشت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اور عفو و درگزر کا رویہ اپنانے کی ہدایت کرتا ہے ۔
ثقافت پذیری
ثقافت پذیر ی ایک ایسا عمل ہے جس میں دوثقافتیں ایک دوسری پر انداز ہوتی ہے اور اس طرح ان میں صفات کا باہمی تبادلہ عمل میں آتاہے۔ ثقافت پذیری میں دونوں ثقافتیں ایک دوسرے کو متاثر تو کرتی ہیں مگر آپس میں ضم نہیں ہوتیں بلکہ اپنا پان الگ وجود بر قرار رکھتی ہیں۔ مثلا ہمارے انگریزی زبان ثقافت پذیر ہے۔ یہ ہماری قومی یا علاقائی زبانوں میں ضم نہیں ہوئی بلکہ اپنا الگ وجود رکھتی ہے۔
انجذاب
جب دو ثقافتوںکے تفاعل سے ان کے درمیان فرق اس حد تک کم رہ جائے کہ دونوں ایک دوسری میں ضم ہوجائیں تو ایسی صورت حال کو انجذاب کہتے ہیں ۔ انجذاب ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تاہم مکمل انجذاب شاذونادرہی ہوتا ہے۔ ثقافتیں اپنا الگ الگ وجود ہر حال بر قرار رکھتی ہیں ۔مثلاً پاکستانی معاشرہ پنجاب ، سندھ ، سرحد اور بلوچستان کے علاوہ قیام پاکستان کے وقت آئے ہوئے مہاجرین پر مشتمل ہے بالفاظ دیگر یہ معاشرہ پانچ ثقافتون پر مشتمل ہے ۔ اور تقریباً 58 برس ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ان پانچوں ثقافتوںکے اپنا اپنا الگ تشخص بر قرار رکھا ہے ۔ ہر ایک کی اپنی علاقائی زبان اور الگ الگ رسم و رواج بدستور موجود ہیں۔
سماجی تفاعل سے متعلق مندرجہ بالا بنیادی باتونکے علاوہ عمرانیات میں درج ذیل موضوعات کا مفصل مطالعہ شامل ہے ۔
۱۔ معاشرتی جمعیتیں گروہ
۲۔ منصب اور کا رمنصب
۳۔ معاشرتی معمولات
۴۔ اقدار اور عقائد
۵۔ طاقت اور اختیار
۶۔ معاشرتی ادارے معاشرہ
۷۔ معاشرہ
۸۔ معاشرتی تنظیم
۹۔ ثقافت
۱۰۔ خاندان
۱۱۔ مذہبی ادارے
۱۲۔ سیاسی ادارے
۱۳۔ تعلیمی ادارے
۱۴۔ تفریحات
۱۵۔ معاشرتی درجہ بندی
۱۶۔ تربیت
۱۷۔ شخصیت
۱۸۔ اجتماعی کردار
۱۹۔ ذرائع ابلاغ عامہ
۲۰۔ معاشرتی و ثقافتی تغیر
۲۱۔ تعمیر کردار ااور امرونہی
۲۲۔ معاشی ادارے
۲۳۔ اجتماعی ترقی
۲۴۔ آبادی کے مسائل
۲۵۔ جرائم
۶۲۔ منشیات
۲۷۔ انتقال آبادی
۲۸۔ آلودگی
۲۹۔ انحراف
۳۰۔ کمیونٹی
۳۱۔ سماجی نظام
۳۲۔ اسلامی معاشرے کے بنیادی تصورات
ان تمام موضوعات کا مطالعہ سماجی تفاعل Social Interaction کے حوالے کیا جاتا ہے ۔ اداروںاور سرگرمیوںکی ساخت اور تنظیم کے علاوہ انکے مسائل پر بھی بحث کی جاتی ہے اور انکا حل تجویز کیا جاتا ہے ۔
عمرانیا ت کا اطلاق اور افادیت
عمرانیات محض ایک فلسفہ نہیں بلکہ سائنس ہے اس لئے اس کا اطلاقی پہلو اس کے نظریاتی پہلوسے زیادہ اہم ہے۔ عمرانیات سماجی زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کر تی ہے ۔ اور اس کے مسائل کا حل پیش کرتی ہے ۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
تعلیم اور تحقیق
معاشرتی صورت حال کامطالعہ اور اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے عوامل وا سباب پر تحقیق سے معاشرتی مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لہٰذا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں عمرانیات کی تعلیم اور تحقیق کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ چو نکہ تعلیم بھی عمرانیات کی موضوعات مطالعہ میںشامل ہے لہذا تعلیمی مسائل پر تحقیق بھی عمرانیات کے دائرہ کارمیں آتی ہے خصوصاً تعلیم کے شعبہ میں پیدا ہونے والے سماجی مسائل کے حل میں عمرانیات بہت کا رآمد ثابت ہوتی ہے ۔
سماجی بہبود:
سماجی بہبود کا کام کرنے والی تنظیموں اور اداروںمیںماہرین عمرانیات کی مشاورت بہت کارمد ثابت ہوتی ہے ۔ لہذاایسے اداروںمٰں ماہرین عمرانیات کی بہت طلب رہتی ہے ۔ حکومت کے محکمہ سماجی بہبود میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ماہر ین عمرانیات کا تفررکیا جاتا ہے ۔
صنعتی تعلقات
صنعتوں میںکارخانہ داروں اور مزدورں کے باہمی تعلقات میں کشیدگی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان دو طبقوں کے مفادات ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں۔ مزدور اپنے حقوق کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ اور کارخانہ دار ان کے فرائض کو ۔کارخانہ دار کی کوشش یہ ہوتی ہے ۔ کہ کم سے کم اجرت پر مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا ئے ، جبکہ مزدور کا م کی مناسبت سے اجرت اور مراعات میں اضافہ چاہتا ہے ۔ اس بنا پر کا رخانہ دار اور مزدور تنظیموں کے درمیان اختلافات جب تصادم پر بھی بڑا اثر پڑتا ہے۔ صنعتی عمرانیات : میں اس قسم کے مسائل کا مطالعہ اور ان کا حل تجویز کیا جاتا ہے ۔ عمرانیات کی اس برانچ کے ماہرین حکومت کے محکمہ افراد ی قوت میں مشاورت کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
بہبود اسیران
مجرم سماجی مسائل کی پیداوار بھی ہوتے ہیں اور مزید سماجی مسائل کا سبب بھی ۔جسمانی مریضوں کی طرح یہ بھی توجہ اور علاج اصلاح کے مستحق ہو تے ہیں۔ عمرانیات صحتمند سماجی رویوں کی تعلیم دیتی ہے ۔ ماہرین عمرانیات: Parole Officer کے طور پر مجرموں کی اصلاح کا کام بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں ۔
معالجاتی عمرانیات
صحت کے شعبے میںمیڈیکل سوشل آفیسر خون کے عطیات کے لئے بلڈبنک ، ادویات کے عطیات کے لئے ڈرگ نیک اور نادار امریضوں کی امداد ا اہتمام کرنے کے علاوہ امراض سے متعلق سماجی مسائل کے حل میں بھی معاونت کرتے ہیں۔
زراعت:
دہی معاشرے کا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔ ناخواند گی کے باعث اس معاشرے کو لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مناسب سماجی تربیت سے ان مسائل کا تدار کے کیا جاسکتا ہے اور اس طرح زراعت کے شعبے میں کار کر دگی بہتر بنائی جا سکتی ہے ۔ اسی لئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں دیہی عمرانیات کا شعبہ قائم کیا گیا ہے ۔ اس شعبے میں زراعت کا متاثر کرنیوالے سماجی عوامل کا مطالعہ کیاجاتاہے ۔
تجارت اور کاروبار:
تجارت اور کاروبار بھی معاشرتی سرگرمیاں میں کیونکہ اس شعبے میں بھی وسیع پیمانے پر سماجی تفاعل ہوتا ہے ۔ ماہرین عمرانیات اس شعبے میں پیدا ہونے والے سماجی مسئال حل کرنے میں مدد دینے کے علاوہ اشیا کی طلب اور رسد سے متعلقہ سماجی امور اور مصنوعات کی تشہر و اشاعت میں معاونت کرتے ہیں مندرجہ بالا اہم امور کے علاوہ ، معاشرتی بہبود دو اصلاح کے تمام سر کاری منصوبون کی ترتیب و نفاذمیں مشاورت کا کام ماھرین عمرانیات سر انجام دیتے ہیں۔ یو این او ، اور دیگر بین الا قوامی تنظیموں کے فلاحی منصوبوںکی ترتیب و نفاذ میں بھی ماہرین عمرانیات سے مشاورت کا کام لیا جاتا ہے۔

2016 - منصور آفاق