تازہ ترین

فلسفہ ۔علی عباس جلال پوری

فلسفہ ۔علی عباس جلال پوری

علی عباس جلال پوری

وجدان اور عقل
قدیم سیرت پسند ، باطنیہ اور اشراقیین یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انسان کے بطون میںکوئی ایسی پر اسرار قوت موجود ہے جو عقل و شعور سے بے نیاز ہے اور حقائق کا براہ راست مشاہدہ کر سکتی ہے۔ اس قوت کو وجدان کا نام دیا گیا جس کا لغوی معنی ہے پالینا ۔وجدان کو تقویت دینے اور اسے بروئے کار لانے کے لئے ویدانتی تائومت کے پیرو ، صوفیہ وغیرہ تجرد گزینی ، استغراق ، سمادھی دھیان ، چلہ کشی اور مراقبے سے کام لیتے رہے ہیں۔ خیال یہ تھا کہ فاقہ کشی اور تپ سے انسان میں کوئی مافوق الطبع روحانی طاقت حلول کر جاتی ہے جس کی مدد سے وہ مادی قیود سے آزاد ہوجاتا ہے اور کر امت و استداراج پر قادر ہوسکتا ہے ۔ ہوا میں اڑسکتا ہے، جنوں کو قابو میں لاکر ان سے کام لے سکتا ہے ۔ پانی پر چل سکتا ہے ۔ چولا بد ل کر دوسرے قالب میںجاسکتا ہے ۔ بغیر کھائے پیئے زندہ رہ سکتا ہے ۔ قدرت کے قوانین کو بدل سکتا ہے ،مستقبل میں جھانک سکتا ہے، دوسروں کے بگڑے ہوئے کام بنا سکتا ہے ۔ سریت پسند اور صوفیہ قلب کو کشف و شہود اور وحی و الہام کا مرکز سمجھتے رہے ہیں۔ غزالی نے احیاء العلوم میں لکھا ہے : ۔
قلب ایک لطیفہ روحانی ربانی ہے ۔جس کو قلبِ جسمانی سے تعلق ہے اور یہی لطیفہ حقیقت انسانی کہلاتا ہے ۔ایک اور جگہ لکھتے ہیں :۔
روح ایک لطیفہ مدرکہ ہے۔ انسان میں اوریہ وہی معنی ہیںجن کی شرح دوسرے معنی قلب میںہم کر چکے ہیں ۔جو علم کشف و اشراق سے حاصل ہوتا ہے اور اسے علم لدنی کا نام بھی دیا گیا ہے۔ صوفیہ اسلام کا ایک فرقہ خضری المشرب کہلاتا ہے ۔ یہ لوگ بزعم خود بلاواسطہ جناب خضر ؑ سے علم لدنی حاصل کرتے ہیں اور انہی کی طرح خلق خدا کے بکھرے ہوئے کام سنوارتے پھر تے ہیں ۔ وحی و الہام سے متعلق اہل مذہب اور اہل تحقیق میں اختلاف رہا ہے ۔ اہل مذہب کے خیال میں کوئی مامور فرشتہ براہ راست خدا سے پیغمبر کے لئے الہامی پیغامات لاتا ہے ۔ اہلِ تحقیق کہتے ہیں کہ اس قسم کے فرشتے کا خارجی وجود نہیں ہے ۔ یہ فرشتہ دراصل ملکہ نبوت ہے اور پیغمبر حالتِ وحی میں خود اپنے آپ کو ان ظاہر ی آنکھوں سے اس طرح دیکھتا ہے جیسے دوسرا آدمی سامنے کھڑا ہو۔ گویا وحی اور الہام پیغمبر کے باطنی حال ہی کا کرشمہ ہے ۔ شیخ اکبر ابن عربی ، مولانا روم ، مولانا عبدالعلی ، بحرا لعلوم اور سرسید احمد خاں کایہی خیال ہے ۔ بعض اکا بر صوفیہ بھی وحی اور الہام کے مدعی رہے ہیں ۔ شیخ الا شراق سہر وردی مقتول اپنی کتاب حکمت الا شراق میں کہتے ہیں کہ انہوں نے عالم تجرید و خلوت میں خود انوارِ مجردہ کا مشاہدہ کیا تھا ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:۔
جو شخص اس کو سچ نہ جانتا ہو اور حجت پر قناعت نہ کرے۔ اس کو چاہئے کہ خود ریاضت کرے اور صاحبینِ مشاہدہ کی خدمت بجالائے تو کچھ دور نہیں ہے کہ وہ جھلک جبروتی نور کی اور وہ ملکوتی ذاتیں اور ان کے انوار جن کا مشاہدہ ہر مس اور افلاطون نے کیا تھا، خود دیکھے اور مینو کا مشاہدہ کرے ۔ ملا صدر الدین شیرازی اسفارِ اربعہ کے دیباچے میں دعوٰی کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے مجھے الہام فرمایا کہ جس جرعے سے میں خود فیض یاب ہوا ہوں ،اس کی تقسیم پیاسوں میں بھی کردوں ۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب لمعات (لغوی معنیٰ قطرات) کے متعلق لکھا ہے کہ یہ رسالہ عبارت ہے، ان چند کلمات سے جو ،ازقبیل، رشحاتِ الہام کے دل پر نازل ہوئے۔ شیخ ابن عربی نے مکاشفے میںدیکھا کہ کتاب فصوص الحکم، انہیں جناب رسالت مآب ﷺ نے عطا کی تھی ۔ القصہ صوفیہ کی نفسیات میں قلب کو کشف و انشراح اور وحی و الہام کا مرکز سمجھا جاتا تھا ۔اس مسئلے کا ایک مابعداطبعیاتی پہلو بھی ہے۔اشراقی صوفیہ کا عقیدہ تھا کہ مادہ اور روح کاصدور ذاتِ احد سے بتدریج ہوا ہے۔ذاتِ احدسے عقلِ کل کا صدور ہوا۔ عقلِ کل سے روحِ کل صادر ہوئی جس سے دوسری عقول متفرع ہوئیں ۔خیال رہے کہ اس نظرئیے میں عقل کا متداول مفہوم نہیں ہے ۔ یہ عقل ِکل غیر فانی اور لازوال ہے اور ارسطو کی عقل فعال ہی کا دوسرا نام ہے۔ انسان میں سوچنے کی جو صلاحیت ہے یا قوت استدلال ہے اسے عقلِ متصعل کہا جاتا تھا اور وہ عقل فعال کے تصرف میں تھی ۔ عقلِ کل کا یہ تصور فلاطینوس کے واسطے سے اسلامی فلسفے اور تصوف میں منتقل ہوا اور عقل انسانی یا عقلِ منضعل کو اس کے مقابلے میں حقیر و صغیر سمجھا جانے لگا ۔ مولانا روم کہتے ہیں۔
عقل کل و نفس کل مرد خدااست
عرش و کرسی رامداں ازروے جدااست
کل عالم صورتِ عقلِ کل است
کوست بابا ئے ہرآں کاہل قل است
چوں کے باعقلِ کل کفراں فزود
صورتِ کل پیش اوہم سگ نمود
(عقلِ کل اور نفس کل مرد خدا ہے ۔ عرش و کرسی کو ان سے جدانہ سمجھو ۔ تمام عالم مظہر ہے۔ عقل کل مرد خدا ہے۔ عرش و کرسی کوان سے جدانہ سمجھو ۔تمام عالم مظہر ہے عقل کل کا ۔کیونکہ جملہ عالم اس نے پیدا کیا ہے ۔ وہ تمام عالم کا باپ ہے جب کوئی عقلِ کل کی مخالفت کرتا ہے ۔ تو تمام اشیاء اصل صورت کے خلاف دکھائی دیتی ہیں)
عقل انسانی کو زیر کی اور عقلِ جزوی کا نام دے کر اس کا حقارت سے ذکر کیا ہے۔
زیر کی چوں بادِ کبر انگیز تست
شویا بمانددیں درست
(عقل جب تم میں غرور تکبر پیدا کر تی ہے تو نادان بن جائوتا کہ ایمان سلامت رہے )
عقل جوی عقل رابدنام کرد
کام دنیا اوئے رانا کا م کرد
(عقل جزوی عقلِ کل کو بدنام کرتی ہے ۔ دنیا کی کامیابی نے اسے عقبی ٰسے ناکام رکھا ہے )
نواشرافیوں کی تقلید میں دنیائے تصوف میں عقل انسانی کی تحقیر و تنقیص کا رواج عام ہوگیا اور وجدان کے مقابلے میں ہر کہیں عقل و خرد کو ہیچ سمجھا جانے لگا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کہیں اور جس صورت میں نواشراقیت کی اشاعت ہوئی خرددشمنی کی یہ روایت محکم ہوگئی ۔ عقل و خرد کے مقابلے میں کشف وجدان کو برتر ثابت کرنے کا ایک سبب نو اشراقیوں کی غلط ہئیت بھی ہے۔ یہ لوگ انسان کو عالم کبیر اور مادہ عالم کو عالم صغیر کہتے تھے ۔ فلاسفہ انسان کو غلام صغیر مانتے تھے۔ ان کا علم آدمی کی ظاہری حیثیت پر موقوف تھا ،جب کہ نواشراقی اپنے دعوے کے ثبوت میں انسان کے باطن پر حصر کرتے تھے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کا باطن تمام عالم کائنات پر حاوی اور محیط ہے یہ خیال باطنیہ کے یہاں بھی ملتا ہے جو باطن کے مقابلے میں ظاہر کو چنداں وقیع نہیں سمجھتے ۔ ہمارے زمانے میں ریڈیائی دوربینوں نے جس عظیم کائنات کا انکشاف کیا ہے اس کے پیش نظر انسان کے عالم کبیر ہونے کا خیال طفلانہ ہے ۔ انسان ایک ایسے ننھے منے سیارچے میںرہتا ہے ۔ جس کا مقام بے کراں کائنات میں وہی ہے جو ایک زرہ ریگ کا صحرا ئے اعظم میں ہے۔ انسان کیا ؟ اس کا باطن کیا؟ ہر صورت تصوف و اشراق کی ہمہ گیر اشاعت سے یہ خیال راسخ ہوگیا ہے کہ انسان کا وجدان اس کی عقل و خرد کے مقابلے میں افضل و برتر ہے ۔ عقل ناقص اور جزوی ہے ۔ جدید سائنس کے انکشافات نے قدیم ہئیت اور نفسیات کا ابطال کیا تو متکلمین کی طرح صوفیہ نے بھی اپنے قدیم افکار کو جدید علوم کے رنگ میں پیش کرنا شروع کیا ۔ نفسیات میں ژونگ اورعلم الحیات میںبرگساں ان کے سرخیل ہیں ۔ جنہوں نے وجدان کے تصور کی نئے سرے سے ترجمانی کی ہے اور اسے علمی اصطلاحات کے روپ میں پیش کر کے اس کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ برگساں کے فلسفے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مرور محض ہی حقیقت نفس الامری ہے جس کا ادراک عقل نہیں کر سکتی کیونکہ وہ زمان کو لمحات و آفات میں منقسم کر دیتی ہے مرورِ محض تک صرف وجدان ہی کی رسائی ہوسکتی ہے ۔ برگساں کہتا ہے کہ مرور محض کے ادراک کے لئے عالم ظواہر کے مشاہدے سے قطع نظر کر کے باطن میں جھانکنا ضروری ہے یہ کہہ کر وہ باطنیہ قدیم کا وہی عقیدہ پیش کر رہا ہے ۔ جس کی روسے حقیقت ظاہر میں نہیں ہے بلکہ وطن میں ہے ۔ اپنی کتاب تخلیقی ذہن میں وہ کہتا ہے ۔ کہ جب میں نے اپنے باطن میںجھانک کر دیکھا تو مجھ پر زمان کی اصل حقیقت منکشف ہوگئی ۔ یہ انکشاف میرے وجدان نے کیا تھا ۔ اسی بنا پر لارڈ بر ٹر نڈر سل نے کہا ہے کہ برگساں کا فلسفہ روائتی تصوف و اشراق پر مشتمل ہے جسے جدید علمی زبان میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے ۔ بہر حال وجدان کو برگساں نے بلا واسطہ ادراک کانام دیا ۔ لفظ ادراک میں حسیات اور شعور کا لا محالہ عمل دخل ہوتا ہے کہ ان کے بغیر کسی شے کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے ۔اس لیے برگساںایک مدت تک اس مخمصے میںمبتلا رہا ہے کہ وجدان کو عقل سے منزہ رکھوں یا اس میں عقل کا نفوذ تسلیم کر لوں ۔ اپنے ترددات کا ذکر کرتے ہوئے وہ تخلیقی ذہن میں لکھتا ہے ۔ لفظ وجدان کے استعمال سے پہلے ایک مدت تک میں متردد رہا ۔ جب میں نے اس کے استعمال کا آخری فیصلہ کر لیاتو میں نے اس فکر کا مابعد الطبیعاتی عمل مراد لیا ۔ اولادذہن کا علم ذہن کے وسیلے سے اور ثانیا ًذہن سے مادے کے جوہر کا ادراک ۔ عقل کا منصب بے شک مادے سے اعتناء کر نا ہے اور اسے استعمال میں لاکر اس کا ادراک کرنا ہے لیکن اس کے مقدر میں مادے کے جوہر تک رسائی پانا نہیں ہے ۔ اس مقالے میں لفظ وجدان کو میںیہی معنی دے رہا ہوں ۔ بعد میں مجھے عقل اور وجدان کے درمیان حدِ فاصل کھینچنا پڑی ۔
گویا وجدان مادے کے جوہر تک پہنچ جاتا ہے اور عقل مادے کو استعمال میں لاکر اس کا ادراک کرتی ہے۔ برگساں نے ان دونوں کے درمیان جو حدِ فاصل کھینچی وہ اسے آخری دم تک پریشان کرتی رہی ہے ۔ صوفیہ کی طرح برگساں کا ادعا یہ تھا کہ وجدانی کیفیات ناقابل اظہار ہوتی ہیں۔ لیکن صوفیہ یافنکار یا خود برگساں جب اپنی وجدانی کیفیات کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں عقل کا دامن تھامنا پڑتا ہے کہ وجدان کااظہار وابلاغ عقل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اور بقول ہاکنگ، جان، عقل کے بغیر بے بس ہے اس اشکال کو رفع کرنے کے لئے تخلیقی ارتقاء میں برگساں نے یہ کہا کہ خود عقل کے بطون میں وجدان کے ممکنا ت مخفی ہوتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں ہوئے اس کا خرد دشمنی کا لب و لہجہ کچھ نرم پڑگیا اور اسے عقل و خرد کی منزلت کا احساس ہونے لگا ۔ لکھتا ہے :
بادی النظر میں وجدان عقل کے مقابلے میں زیادہ مرغوب لگتا ہے کیونکہ اس میں حیات اور شعور اپنے اپنے حدود میں رہتے ہیں لیکن ذی حیات مخلوق کے ارتقا ء میں ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ وجدان کچھ زیادہ دور نہ جاسکا شعور نے اپنے آپ کو وجدان کا اس قدر اسیرپایا کہ وجدان سکڑ گیا اور جبلت بن گیا ۔ یعنی اس کی دلچسپی حیات کے ایک ننھے سے پہلو تک محصور ہوگئی ۔ اس کے برعکس شعور نے عقل کی صورت اختیار کر لی ۔ عقل اشیاء کے ساتھ بیرونی رابطہ پیدا کرلیتی ہے ۔ وہ ان میں گھل مل جاتی ہے اور اپنے راستے کی رکا وٹیں دور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ آزاد ہوکر وہ اپنے اندرون کی طرف متوجہ ہو تی ہے اور اس کے بطون میں وجدان کے جو ممکنات موجود ہیں انہیں جگا دیتی ہے ۔ ایک جگہ برگساں نے وجود کو عقلیاتی ہمدردی کہا جس کی مدد سے ایک شخص کسی شے کی تہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ وجدان کے قدیم تصور پر جدید سائنس کارنگ چڑھانے کے لئے اس نے وجدان کو جبلت کہا ہے کہ جس پر عقل کا عمل ہوا ہو اور وہ اپنے مقام سے بلند تر ہوگئی ہو۔ تخلیقی ارتقاء میں کہتا ہے ۔ جبلت اور عقل ایک دوسرے میں نفوذ کئے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا ماخذ ایک ہے ۔ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی پوتر صورت میںنہیں ملتی ۔ عقل میں ہمیشہ جبلت کے آثار ملتے ہیں اور کوئی جبلت ایسی نہیں ہوتی جس میں عقل کا شمول نہ ہو ۔
لیکن برگساں کو اپنے اس ادعا کے منوانے کے لئے کہ مرورِ محض کا ادراک عقل نہیں کر سکتی ۔ وجدان کر سکتا ہے ۔ دونوں کے درمیان حدِ فاصل کھینچنا پڑی جس نے اس کے فیصلے کو تضادات کا ملغوبہ بنا دیا ہے ۔اس نے صوفیہ کی طرح وجدان کو عقل پر برتری دلانے کے لئے اپنا سارا زورِ قلم صرف کر دیا لیکن بات نہ بن سکی ۔ عقل اور وجدان کے ربطِ باہم کی وضاحت کرتے ہوئے اسے کئی پہلو بدلنا پڑے اور ترددات نے اس کے استدلال میں رخنے ڈال دیئے جن کی طرف توجہ دلانا مناسب نہ ہوگا۔

2016 - منصور آفاق