تازہ ترین

فلکیات

فلکیات

افتخار احمد

ستارے اور تلاش کوزار
۱۹۳۰ء میں کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنا لوجی کے ایک ماہر فلکیات نے دریافت کیا کہ ضخیم کہکشاں کا ثقلی کھنچائو کسی عدسے کی طرح عمل کر سکتا ہے جبکہ انکل آئن اسٹائن بھی یہی کہا کرتے کہ کشش ثقل رشنی کو محدب عدسے کی طرح منحرف کر سکتی ہے جبکہ انحراف کی مقدار شے کی ضمانت پر منحصر ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک نظر یہ یہ بھی رہا ہے کہ ایک کہکشاں دوسری کہکشاں کی روشنی اسوقت مرتکز کر سکتی ہے جب ایک دوسرے کے در پردہ آ جائیں ۔ جبکہ کچھ صورتوں میں اس طرح دور دراز کہکشائوں کے ضربی عکس بھی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ دراصل ارتکاز کا یہ عمل کہکشائوں کو روشن ترظاہر کرتا ہے ۔ تاہم تحقیقاتی مسئلہ ی ہے کہ عدسی ثقل کیلئے طولِ ماسکہ تقریبا ًقابلِ مشاہدہ کائنات کے سائز جتنا ہو ، چنانچہ صرف طویل فاصلی ذرایع ہی عملاًدیکھے جاسکتے ہیں لیکن نہایت مبہم ۔
۱۹۶۰ء کی ابتداء میں اس صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی جب امریکی ماہر ینِ فلکیات نے کوزار دریافت کر لیے ۔ یہ قطعی طور پر روشن مربوط اور طویل فاصلوں سے بھی نظر آنیو الے اجسام ہیں ۔ فلکیات داں عدسیات کو کائنات میںکہکشائوں کی تعداد و کمیت معلوم کرنے کے لئے اہم تصور کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ ارتکاز اور ثقلی کشش کے عکس کی تقسیم وغیرہ بھی بآسانی سمجھے جاسکتے ہیں ۔ یہ عدسیاتی دریافت ایک عرصہ تک لایقنیت کا شکار بھی رہیں ۔ دراصل چند ماہرین عدسیات نے ثقلی عدسیات کو ہر ایک غیر معمولی نظام سے ملا دیا تھا یہ جانے بغیر کہ آیا کہ کیا واقعی ایسا ہے ؟ تاہم ۱۹۷۹ ء میں امریکی اور برطانوی ماہرین فلکیات نے دہرے کوزار دریافت کر کے اس لایقنیت کا خاتمہ کر دیا ۔ دہرے کوزار تقریباً یکساں طیفی علامت کے حامل ہوتے ہیں ایک دوسرے سے اتنے مشاہبہ کہ ایک ہی کوزار کے دوعکس محسوس ہوتے ہیں حال ہی میں فلکیات دانوں کے دودھیا کہکشاں سے نزدیک ہی ایک کہکشاں ایسے ہی دو عکس کے درمیان دریافت کی ہے بالکل اسی جگہ جہاں پر عدسی کہکشاں کو واقع ہونا چائیے ۔ کیٹیلاگ نمبر والی یہ کہکشاں بہترین مثال ہے ۔ اور اب فلکیات داںمتفق ہیںکہ ثقلی عدسیات ہی دہرے کوزار کی قابل توجہ وضاحت ہے بیشتر کو زار روشنی پر مبنی محسوس ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ایک عکس بنانے والی روشنی دوسرا عکس بنانے والی روشنی سے مختلف فاصلے تک سفر کرتی ہے اور اس لئے بھی کہ فوٹان کی رفتار عدسی کہکشاں کے ثقلی میدان میں کم ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ یک بعد دیگر دو عکس دکھائی دیتے ہیں جنکے درمیان وقتی فرق مخصوص ہو تا ہے QSO ، کیلئے وقتی فرق ۱۸ ماہ معلوم کیا گیا ہے جبکہ پیرس کے سینٹر فار آسٹرو فزکس کے آر ہ ای شیلڈ کی جدید متفقہ شماریات کے مطابق یہ وقتی فرق تقریباً ۴۱۵ دن ہے ۔ وقتی فرق میںفلکیات داں مخصوص دلچسپی لے رہے ہیں ، دراصل یہ کائناتی پیمانے پر فاصلوں کا تعین کرنے کیلئے معاون کی حیثیت کی حامل ہے وقتی کا تعین کر نے کیلئے معاون کی حیثیت کی حامل ہے وقتی فرق کے علاوہ کہکشاں اور کوزار کے عکس کی ہئیت کی جیومیٹری سے فلکیات داں بہت دور کہکشائوں کے اس طرف فاصلوں کی وضاحت کر سکتے ہیں ۔ اس طرح کائنات کے پھیلائو کی شرح بھی معلوم ہوسکتی ہے ۔ اور عدسی کہکشاں کی کمیت بھی ۔ ہم جان لیا ہے کہ ان کہکشاں کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ستاروں ایسے ہی مربوط اجسام پر مشتمل ہے (مثلا سیاہ سوراخ یا بھورے بونے) کہکشائوں میں ستاروں کے درمیان فاصلے انکی جسامت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ صرف دھول اور گیس پر مبنی کہکشاں ہی زیادہ شفاف ہوتی ہیں ۔ ایسی کہکشاں کے مرکزی حصہ میں بھی ستاروں کے ذریعہ کروڑوں میں سے کسی ایک شعاع ہی رک جانے کے امکانات ہوسکتے ہیں ۔ تاہم انفرادی ستارے روشنی کو منحرف کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ طویل فاصلوں پر اجسام کے مشاہدات مشکل ہوجاتے ہیں ۔ پوری کہکشاں میںپھیلے ہوئے مبینہ ثقلی میدان کے ذریعے مشاہدہ کائنات سے موازنہ کے لئے ہم ان اثرات کو خورد عدسیات کہتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ستاروں کے ثقلی میدان کی کوئی حقیقی حد نہیںہوتی ۔ لیکن کوزار کے معاملے میں انکا ایک اثر کن سائز محسو س ہوتا ہے ۔ اگر کوئی کوزار کسی ستارے کے پیچھے واقع ہو تو یہ کسی دائرے کی مانند دکھا ئی دیتا ہے ۔ جنہیں آئن سٹائن کے دائرے سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ستاروی حرکات مصغر (خورد) عدسیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یعنی ہفتوں اور مہینوں سے لیکر کئی لاکھ سال کے وقتی فرق جیسے تغیرات لاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصغر عدسی اثرات ، کا مشاہد زیادہ دلچسپی اختیار کر تا جا رہا ہے ۔ ہماری اپنی کہکشاں کے مقابلے میں پڑوسی کہکشائوں کے آنے والے کوزاری عکس مجموعی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں ۔ جبکہ ان کا کل رقبہ کہکشاںکے گل رقبہ کا مختصر ترین حصہ ہوتا ہے نسبتاً قریب اور کوزارون کی حامل کہکشاں کا رقبہ دور موجود بڑی کہکشاں سے بھی زیادہ نظر آتا ہے ۔ چنانچہ زیادہ فاصلے پر موجود کسی کہکشان میںموجود ہ ستارہ کوزار کیلئے مصغر عدسہ کے طور پر عمل کر سکتا ہے ۔ اسطرح کہکشاں کے فاصلہ کا تعین آسان ہوجاتا ہے ۔ دور تر ضربی عکس مہیا کر نے والی کہکشاں مصغر عدسیات کی بہتر امیداوار ہوتی ہے ۔ لیکن یہ اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب مذکورہ کہکشاں اور ہمارے درمیان ستارے اور دیگر مادہ حائل نہ ہو ۔ جبکہ ستارے انفرادی طورپر بھی مصغر عدسیات کے طور پر عمل کر لیتے ہیں کم فاصلے پر کہکشاں مصغر عدسیات کیلئے زیادہ موزوں خیال کی جاتی ہے کیونکہ ستاروی گردش مصغر عکسی تغیر پیدا کر سکتی ہے ۔ ۰۳۰۵کوزار کی مثال لے لیجئے جو چہار عکسی دکھائی دیتی ہے جبکہ ہم سے اسکا فاصلہ ۰۳۹۔ سرخ منتقلی یا پانچ کر وڑ نوری سال ہے ۔ اب اسے کائناتی ترفل کی پتی بھی کہا جاتا ہے ۔
بلیک ہول
ایک عظیم ستارے کا تصور کیجیے جس کی زندگی بس ختم ہونے والی ہے ۔ اس کا نیو کلیئر ایندھن ختم ہوچکا ہے اور ایک سپر نودا کے روشن دھما کے نے اس ستارے کے چیتھڑے اُڑا دئیے ہیں ۔ اور اس کا غالب حصہ فضاء میں بکھر چکا ہے اب سورج کی جسامت کا ڈھائی گنا مادہ باقی رہ گیا ہے کائنات میں ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو اس مردہ ستارے کو اس حالت میں سہارا دے سکے ۔ اس کے انجام میں بلیک ہول کا بننا مقدر ہوچکا ہے ۔ اس کو استحکام دینے کے لئے کششِ ثقل کے تحت اسکا بھنچائو تیزی سے شروع ہوگا اور چند سیکنڈ کے وقفے مین تکمیل کو پہنچ جائے گا ۔ مادے کے تحت ایٹمی ذرے ، الیکٹرون ، پروٹون اور نیوٹرون صحیح معنوں میں ایک دوسرے میں دھنس جائیں گے ۔ مزید بھنچائو کی وجہ سے ستارے کے حجم کی مقدار کم سے کم تر ہوتی جائے گی تو اس ستارے کے اطراف زمان و مکان کی خمیدگی نمایاں ہوجائے گی ۔ بڑھتی ہوئی خمیدگی کی وجہ سے ستارے کی سطح سے نکلتی ہوئی روشنی زیادہ سے زیادہ زاویہ پر خم ہوجائے گی اور دوسرے مشاہدہ کرنے والے فلکیات دانوں کو ستارہ سیاہ سے سیاہ تر ہوتا ہوا نظر آئے گا ۔ انجام کا ر بھنچائو کے ایک بحرانی لحظے پر زمان و مکان کی خمیدگی اتنی بڑھ جائے گی کہ روشنی کی کرنیں بھنچے ہوئے ستارے کی سطح پر سے پلٹ کر اندر کی طرف مڑجائیں گے اور روشنی کے باہر نہ نکل سکنے کی وجہ سے ستارہ سیاہ ہوکر نظر وں سے غائب ہوجائے گا۔
بھنچے وہئے ستارے میں سے نکلنے والی روشنی کی کرنیں جیسے جیسے ایک عظیم ستارہ بھنچتا ہے اسی نسبت سے کشش ثقل زیادہ سے زیادہ طاقتور ہوتی جاتی ہے ۔ دوسرے معنوں میں جوں جوں بھنچائو کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا ہے ستارے کی سطح سے نکلنے والی روشنی کی کرنوں کا خم بڑھتا جاتا ہے ۔
(الف) ستارے ے نکلتی ہوئی روشنی بھنچائو کے عمل سے پہلے ! ستارے کے اطراف زمان و مکان معمولی طور سے خم کھائے ہوئے ہیں اور سطح سے نکلنے والی روشنی کے خطوط تقریباً سیدھے ہیں۔
(ب): اور (ج): یہ بھنچائو کے عمل کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ستارے کے اطراف زمان و مکان کا خم جیسے جیسے بڑھتا ہے روشنی کی کرنیں زیادہ خمیدہ ہوتی جاتی ہیں ۔
(د): انجام کار ستارون کی خمیدگی اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ روشنی کی کرنیں واپس ستارے کے اندر مڑجاتی ہیں اس حالت میں ستارہ اپنی افقی سرحد کے اندر گر جاتا ہے اور اس طرح بلیک ہول بن جاتا ہے ۔
بلیک ہول:۔
یہ نام ۱۹۹۶ء میں امریکی سائنسدان جان و ہیلر نے تجویز کیا تھا ۔ ۱۹۲۰ء میں جامعہ کیمبرج انگستان میں سرآرتھر ایڈنگٹن فلکیات کے پروفیسر تھے وہ آئن سٹائن کے نظر یہ اصنافیت کے ماہر اور آئن سٹائن کے علاوہ اس نظریے کو سمجھنے والے دوسرے واحد شخص خیال کیے جاتے تھے ۔ کسی اخبار کے نامہ نگار نے اُن سے پوچھا تھے کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں نظر یہ اضافیت کو پوری طرح سمجھنے والے صرف تین شخص ہیں۔ سر آرتھر نے جواب دینے سے پہلے کچھ توقف کیا اور پھر کیا میں سوچ رہا ہوں کہ وہ تیسراشخص کون ہے ۔
۱۹۲۸ء میں ایک ہندوستانی سائنس گر یجوئیٹ چندر شیکھر جامعہ کیمبرج میں ریاضی اور فلکیات کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندستان سے بحر ی جہاز پرروانہ ہوئے ۔ سفر کے دوران ہی انہوں نے حساب لگا لیا کہ ایک ٹھنڈے مستحکم ستارے کا جس نے اپنا ایندھن ختم کر لیا ہو کتنا حجم ہونا چاہیے ۔ تاکہ وہ کشش کا مقابلہ کر کے خود سہارا ہوسکے ورنہ وہ خیال اور نظر یہ کو قبول کرنے سے یکسر انکار کر دیا کہ کوئی ستارہ لامتناہی حد تک سکڑ کر نقطہ بن سکتا ہے ۔ دوسرے سائنسدانوں نے بھی اس نظریے کے مخالفت کی ۔ سر آرتھر نے چندر شیکھر کو اس نظر یے پر مزید تحقیق سے روک دیا ۔ بیچارے چندر شیکھر نے اپنی تحقیق کی نہج ہی بدل دی ۔ ۱۹۸۳ء میں چندر شیکھر کو اس نظر یہ تحقیقات کے علاوہ دوسری ریسرچ پر نوبل انعام دیا گیا ۔
چندر شیکھر نے حساب لگا یا تھا کہ کسی ٹھنڈے ستارے کا حجم اگر سورج کے حجم کے ڈیڑھ گنا سے زیادہ ہو تو وہ کشش ثقل کے مقابل خود سہارا نہیں بن سکتا اور لازمی طور پر بھنچ جائے گا ۔ اس حجم کو چندر شیکھر کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ بلیک ہول کیسے بنتا ہے ۔ ایک ستارے کے دور زندگی کا مطالعہ ضروری ہے ۔
سورج کی طرح گرم ستارے بھی ایک عرصہ ایک مستحکم حالت میں رہتے ہیںکیونکہ ان کا ایندھن جو ہائیڈروجن گیس کی شکل میں ہوتا ہے ۔ نیو کلیئر فیوژن کے عمل کی حرارت کی وجہ سے کشش ثقل کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر کے توازن کی حالت میں ہو جاتا ہے یہاں تک کہ کئی بلین سالوں کے بعد اس کا ایندھن ختم ہوجائے گرم ستارے کا حجم جتنا زیادہ ہوگا ۔ کشش ثقل کے مقابل میں متوازن رہنے کے کئے اسے اتنا ہی گرم ہونا پڑے گا اور ا س کا درجہ حرارت جتنا زیادہ ہوگا ، وہ اپنا نیو کلیئر ایندھن اسی تیزی سے ختم کر ے گا ۔
سورج کے حجم کا گرم ستارہ اپنے ایندھن کو ختم کر کے دیو قامت سرخ ستارہ بن جاتا ہے ۔ اور انجام کا ر سفید بونے ستارے میں بدل جاتا ہے جس کا نصف قطر صرف چند ہزار میل کا ہوکا ہوگا اور اس کی کمیت فی مکعب انچ سینکڑوں ٹن کی ہوگی ۔ ایسے بونے ستارے کہکشائوں میں کئی ہیں ۔ پہلا سفید بونا ستارہ جو دریافت ہوا وہ تارون بھری رات میں سب سے چمکدار ستارے کے اطراف گردش کرتا ہے ۔ لینڈائو نے ستارے کی ایک اور مستحکم حالت دریافت کی جو سفید بونے ستارے سے بھی بہت چھوٹا ہے ان ستاروں میں نیو ٹرون اور پروٹون میں ردودفع ہوتا ہے اور یہ نیوٹرن ستارے کہلاتے ہیں ان کا نصف قطر تو صرف دس میل یا اس سے بھی کم ہوگا لیکن ان کی کمیت فی مکعب انچ سینکڑوں ملین تن کی ہوگی ۔ لیکن وہ استارے جن کا حجم چندر شیکھر حد سے زیادہ ہوتا ہے جب اپنا ایندھن ختم کر چکتے ہین توان کے لئے کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ یا تو یہ ستارہ اپنے مادہ کی کچھ مقدار ضائع کر کے چندر شیکھر حد کے اندر ہوجائے گا یا ایک لامتناہی حد تک بھنچ کر بلیک ہول بن جائے گا جس کا مرکز نقطہ لامتناہی ارتکاز کہلاتا ہے ۔ اس بلیک ہول کی کثافت اور کشش ثقل اور انتہا درجے کی ہوتی ہے کہ یہ قریب کے ستاروں کے مادوں کو اپنے اندر کھنچ لیتا ہے ۔ نیچے کے نقشے میں اہم وضاحت سے دیکھ سکتے ہیں کہ کشش ثقل کا فضاء کی خمیدگی پر کیا اثر ہوتا ہے اگر ہم بھنچتے ہوئے عظیم ستارے کے اس نقشے کا معائنہ کریں جس میں وہ مضبوطی سے جماہوا ہے توہم کو بلیک ہول کی نوعیت اور ساخت کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔
اس خاکہ میں عظیم ستارے کے گرد فضا کی خمیدگی دکھائی گئی ہے ستارے سے کافی فاصلے پر فضا مسطح ہے کیونکہ یہاں کشش ثقل کم ہے ۔ نہایت طاقتور کشش ثقل اور فضا کی بہت نمایاں خمیدگی ستارے کے عین اوپر ہے سیاہ حصہ ستارے کے مادے کے مقام وقوع کو ظاہر کرتا ہے ۔ اگر ستارے کا حجم بھنچائو پہلے سورج کے حجم سے دس گناہ بڑا تھا تو اب سکڑ کر صرف ۶۰کلومیٹر کا کرہ باقی رہ جائے گا ۔ بلیک ہول کی سرحد یاافقی کوافقی واقعہ کہتے ہیں ۔ یہ اصطلاحی بالکل برمحل ہے کیونکہ اس افقی سرحد کے اندر کی کوئی چیز نظر نہیں آسکتی اور نہ یہ پتہ چل سکتا ہے کہ اس سرحد کے اندر کیا ہورہا ہے ۔ یہ گویا ہمارے زمان و مکان سے کٹ کر قطعی بے تعلق ہوجائے گا اور اس طرح کہ اب وہ کائنات کاحصہ ہی نہیں رہا ۔ افقی سرحد کا قطر اس ٹھنڈے ستارے کے حجم کے تناسب سے ہوتا ہے جس سے کہ یہ بلیک ہول بنا ہے ۔ جس ستارے کا حجم شروع میں سورج کے حجم کا ۵ گنا ہوگا اس کی افقی سرحد بلیک ہول کی افقی سرحد کا قطر ۱۲۰ کلو میٹر رہے گا ۔ دور سے نظارہ کرنے والے فلکیات دان کے لئے گویا ایک بلیک ہول اس وقت بنے گا جب ٹھنڈا ستارہ بھنچ کر افقی سرھد کے اندر ہو جائے گا لیکن کائنات میں ایسی کوئی قوت نہیں ہے جو اس ستارے کو سہارا دے سکے ۔ کشش ثقل کے تحت اس کا مزید بھچائو بے درد استقلال سے جاری رہے گا ۔ کشش ثقل کی طاقت اور زمان و مکان کی خمیدگی اس بھنچتے ہوئے ستارے کے اطراف بڑھتی جائے گی حتیٰ کہ یہ سکڑتا اور بھنچتا ہوا ایک واحد نقطہ بن جائے گا ۔ اس مقام پر اس کا دبائو کثافت اور زمان و مکان کا خم ہیں ۔ ہماری کہکشاں کا بلیک ہول بہت سادہ ہے اس کے صرف دوحصے ہیں مرکز میں نقطہ لا متناہی ارتکاز ہے اور بلیک ہول کے اطراف اس کی افقی سرحد ہے ۔
اس امر کو ذہن نشین رکھنا چاہیے ۔ کہ بلیک ہول خالی ہے یہاں قطعاً کچھ نہیں ہے ۔ نہ کوئی ایٹم ہیں نہ پتھر ہیں ، نہ گیس ہے نہ خاک ہے ۔ بس کچھ نہیں ہے ۔ اگرچہ سائنسدان افقی سرحد کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس افقی سرحد پر کوئی طبیعی یا ظاہری چیز نہیں ہے یہاں جو کچھ ہے وہ انتہائی خم کھائی ہوئی فضا اور وقت ہے ۔ نظریہ اصنافیت کے مظاہر جو زمین پر یا سورج سے قریب بے انتہا خفیف و بے مایہ ہیں ، وہ بلیک ہول ہول کے قریب تصور کے ماوراحد تک مبالغہ آمیز ہوجاتے ہیں ۔ کشش ثقل کے تحت وقت کی رفتار گھٹتی ہے لیکن بلیک ہول کی افقی سرحد پر وقت قطعی طور پرتھم جاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے رک جاتا ہے ۔ بلیک ہول کی افقی سرحد کے اندر فضا اور وقت کی سمت وجہد متبادل ہوجاتی ہیں۔
مستحکم بلیک ہول کا خاکہ : بلیک ہول کے مرکز میں نقطہ لا متناہی ارتکاز اور اس کے اطراف افق واقعہ یا افقی سرحد ہے یہاں کشش ثقل انتہائی درجہ کی طاقتور اور اتنی شدید ہے کہ اس کے اندر سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی ہے ۔ اس سرحد کے اندر کشش ثقل کی طاقت اور زمان و مکان کی خمیدگی لامتناہی ارتکاز کے نقطہ تک بڑھتی ہی جاتی ہے ۔ نقطہ لامتناہی ارتکاز پر زمان و مکان کا خم لامتناہی ہو جاتا ہے ۔
مستحکم سادہ بلیک ہول میں لامتناہی حدتک بھنچا ہوا مادہ ہے ا س سادہ قسم کے بلیک ہول میں ہو نہ کوئی برقی بارے ہے ، نہ کسی طرح کی گردش ہے اے شوارز چائلڈ بلیک ہول کہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ بلیک ہول میں مادہ ہونا چاہیے ۔ مادے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشش ثقل کے بغیر بلیک ہول کبھی نہ بن سکتا اور جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے ، بلیک ہول کے افق کا قطر مادے کی مقدار پر منحصر ہے ۔ یہ بھی یادر ہے کہ بلیک ہول کے قریب جو مادہ گیس ، پتھر یا خاک کی شکل میں ہوگا ان سب کی بلیک ہول کھنیچ کر اپنے اندر جذب کر لے گا اور وہ مادہ کائنات سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ ہوجائے گا ۔ بلیک ہول میں مادے کی جو مقدار ہے ہم اس کا اندازہ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ بلیک ہول کے اطراف مصنوعی سیارہ بھیجیں جو اپنے مدار پر گردش کرے ۔ بلیک ہول کے مادے کی کششِ ثقل کا اثر بہت دور تک محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ بلیک ہول کے براہ راست مشاہدہ تو اب تک نہیں ہوسکا ہے اس کی موجودگی بالواسطہ طریقے سے محسوس کی جاتی ہے ۔ بلیک ہول چھوٹے بڑے سائز کے ہوتے ہیں ۔ سورج سے ۲۰ گنا حجم کا ستارہ انتہائی بھنچائو کے بعد لاس اینجیلیز شہر کے برابر رہ جاتا ہے ۔ اور اس کی اتنہائی کشش ثقل 10 ہوجاتی ہے ۔ یہ زمان و مکان کے تسلسل میں خود پیدا کردہ شگاف میں سے گزر کر کائنات سے غائب ہوجاتا ہے ۔ ۱۹۷۱ء میںایک خلائی جہاز ’’ اوہورو‘‘ فضاء میں چھوڑا گیا تھا اس نے مجمع النجوم سگنس میں ایکس زیر کا ایک طاقتور سر چشمہ دریافت کیا جس کو سگنس ایکس ۱ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ ہر سیکنڈ میں ہزاروں بار جھلملاتا ہے ۔ اس ماخذ کا قطر ۳۰۰ کلومیٹر تھا ۔ ایکس ریز کا یہ ماخذ غالباً بلیک ہول ہے ۔ بلیک ہول کی تیسری اور آخری خصوصیت اس کی گردش ہے ۔ اس گردش کی پیمائش بھی اس خلائی سیارچے کے ذریعے افقی سرحد سے دور ایک محفوظ فاصلے سے کی جاسکتی ہے گردش کرنے والا بلیک ہول زمان و مکاں کو بھی اپنے اطراف گھمالیتا ہے ۔
ایک عام بلیک ہول ، زمان و مکاں کی سپاٹ سطح کے توسط سے باقی کائنات سے ملا ہواہے ۔ بلیک ہول سے کافی دور اس سطح کی موجودگی ہی کی وجہ سے بلیک ہول کے مادے ، برقی بار اور گردش کے متعلق ہم فہم و فراست سے گفتگو کر سکتے ہیں ۔ ایک غیر مرئی جرم سماوی جس کی کمیت سورج سے دس گنازیادہ ہوا اور وہ بھنچ کر ایک سیار چے کے سائز کارہ جائے وہ بلیک ہول ہی ہوسکتا ہے ۔ سادہ بلیک ہول کے علاوہ دوسری خصوصیات کے بلیک ہول بھی دریافت کیے گئے ہیں۔ ایک قسم کے بلیک ہول میں برقی بار ہوتا ہے ۔ کشش ثقل کی طرھ برقی توانائی بھی دور رس طاقت ہے اگر کوئی بلیک ہول برقی بار رکھتا ہے تو اس کے برقی میدان کی پیمائش کی جاسکتی ہے ۔ خلائی سیارچے میں حساس آلات لگا کر بلیک ہول کے برقی بار کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے جب بلیک ہول میں برقی بار کا ارتقاء ہوتا ہے ۔ تو نقطہ لامتناہی ارتکاز کے اطراف دوسری افقی سرحد پیدا ہوجاتی ہے : ایک افقی سرحد کشش ثقل کی وجہ سے اور دوسری برقی بار کی وجہ سے ! اس طرح کے بلیک ہول میں نقطہ لامتناہی ارتکاز ا انگشتر نما ہوتا ہے ۔ گردش کرنے والا بلیک ہول ، نقطہ لامتناہی ارتکازا انگشتری نما ہے ۔ گردش کرنے والے بلیک ہول میں بھی دوسری افقی سرحد ہوتی ہے ۔ اگر گردش کی رفتار بڑھتی جائے تو اندروانی افق واقعہ پھیلنے لگتا ہے اور بیرونی افق واقعہ سکڑتا جاتا ہے حتی کہ دونوں ایک دوسری سے مل جاتے ہیں دوسری وضع کے دو بلیک ہول ۔ یعنی سادہ بلیک ہول اور بر قائے ہوئے بلیک ہول میں نقطہ لامتناہی ارتکاز محض ایک نقطہ ہوتا ہے لیکن گردش کرنے والے بلیک ہول کا نقطہ لامتناہی انگشتری نماہوتا ہے ۔ یہ بلیک ہول کے خطِ استوا کی سطح میں اور گردش کے مور کی عمودی سمت میں ہوتا ہے ۔ نیوزی لینڈ کے ریاضی داں ڈاکٹرکر وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے ریاضی کی اس مساوات کے لکھنے میں کامیابی حاصل کی جس نے بلیک ہول کے مادے اور گردش کو مکمل صحت کے ساتھ بیان کیا ۔ اس لیے گردش کرنے والا بلیک ہول کربلیک ہول کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کائنات میںبلیک ہول فی الحقیقت نہایت سادہ مظاہر ہیں جن کے سانچے میں صرف تین امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں: مادہ برقی بار اور گردش بلیک ہول کی انتہائی کشش ثقل کی وجہ سے روشنی کی کرنیں بھی اندر کی طرف مڑجاتی ہیں اور چونکہ باہر نہیں نکل سکتیں اس لیے بلیک ہول کسی دور بین سے بھی نظر نہیں آسکتا ۔ برقائے ہوئے بلیک ہول میں دوافقی سرحدیں ہوتی ہیں: ایک اندرونی اور ایک بیرونی جیسے جیسے برقی بار زیادہ ہوتا ہے ، اندرونی واقعہ پھیلنا جاتا ہے اور بیرونی افقی سرحد سکڑتی جاتی ہے ۔ جب برقی بار اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اندرونی اور بیرونی افقی سرحد یں مدغم ہوجاتی ہیں۔
انتہائی مستقبل بعید میں اگر کبھی کائنات پھیلنے سے رک جائے تو اس کا بھنچائو شروع ہوگا اور اگر ہم اور جاندار اس وقت تک بفرض محال زندہ رہے تو ہم سب لازمی اور یقینی طور پر کائناتی بلیک ہول میں ساری کائنات کے ساتھ کھنچ جائیں گے ۔ کائنات جب سر کے بل اس لامتناہی دبائو کثافت اور سب سے اہم زمان و مکاں کی لامتناہی خمیدگی کی طرف رُخ کر ے گی تو یہ عظیم ترین بلیک ہول تمام زمان و مکاں کا مکمل طور سے احاطہ کر لے گا اور مادے کی نہایت بنیادی خصوصیات بالکل نیست و نابود ہوجائیں گے ۔ سائنس کے تمام نہایت ہی بنیادی اصول ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائیں گے ۔ طبیعیات اور ریاضی کے وہ تمام اصول جو مادے ، توانائی اور تابکاری کو انتہائی تفصیل سے بیان کرتے ہیں، ٹوٹ کر بیکار ہوجائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں کہ ۲۰ ارب سال قبل بگ بینگ سے پہلے کیا صورتحال تھی اور کس طرح کے اصول اور قواعد و ضوابط نافذ تھے جس کے عظیم دھماکے سے اس کائنات کی پیدائش ہوئی ۔ ابتدائے آفر ینش کے ابتدائی ترین نقطہ لامتناہی ارتکاز سے اہم اس کائنات کی زمان و مکاں کی انتہائی خمیدگی کی وجہ سے کٹے ہوئے ہیں اور اس سے لاعلم محض ہین ہوکستا ہے کہ گذشتہ کائنات جوبگ بینگ کے نقطہ لامتناہی ارتکاز کے دھماکے سے قبل تھی ، ا س میں ایٹم ہماری موجودہ کائنات کے ایٹموں سے یکسر مختلف ہوں اور آئندہ کائنات جو موجودہ کائنات کے آخری بھنچائو کے بعد اس کی راکھ سے پیدا ہوگی ، وہ قطع اور بالکل ہی ناقابلِ شاخت ہو۔

2016 - منصور آفاق