تازہ ترین

مذہبیات

مذہبیات

سید نصیر شاہ

۱۔مذہب
۲۔قدرت بمقابلہ مثبت مذہب
۳۔مذہب کا تقابل
۴۔مذہب کی ابتدا
۵۔دیتا/دیوی کی اقسام
۶۔عظیم دیوتا/دیوی کا تصور
۷۔مذہب اور سائنس
۸۔مذہب اور اخلاقیات
مذہب کی دستاویزات کامطالعہ کر نے کے دو طریقے ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے یقین و عقیدہ کے مطابق اپنی مذہبی کتاب پڑھتا ہے جیسا کہ عیسا ئی بابیل پڑھتے ہیں ۔یہاںفرد اسے ہدایت یا تعلیم کا ذریعہ سمجھتا ہے جو اسے اختیار تفو یض کرتا ہے وہاں و ہ اپنے یقین کے مطابق علا مات اور امید تلاش کرتا ہے ۔آدمی اور کتاب کے درمیان تعلق یہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کام وقت ،روایت اور سماجی تجربے کا ہے۔ کتاب آدمی کیلئے اس وقت تک مقدس نہیں بنتی جب تک کہ اسکے اصول شخص کی روحانی زندگی کو متاثر و منور نہ کریں یااسکے عقیدہ کو پختہ نہ کریں ، یہ اسکی سوچ اور دماغ سے متصل ہوجاتی ہے اور یقین ہمیشہ اسکا مقروض رہتا ہے ۔ بائبل اس شخص کے لئے ایک آزمودہ علاج اور چار جوئی مہیا کرتی ہے جو اس پر اپنی روح کی صحت سے یقین رکھتا ہے۔ یہ کوئی آلہ نہیں ہے بلکہ علامت ہے کسی نسل کی مذہبی کتاب یا مذہب کی تاریخ یقینا ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ کسی کیلئے ذاتی بابیل یا زندگی کی تاریخ ۔ یہ فرد اور کتاب کا وہ تعلق ہے جس نے اسے مقدس بتایا ہے ۔میں یہاں زور دیتا ہوں کہ یہاں قاری اور کتاب کا تعلق شاید یہ ہے جو اس کتاب کو منفرد بناتا ہے اور اسکا یہ رویہ دیگر کتب سے مختلف ہوتا ہے۔ مذہبی کتابیں اور دستاویزبابیل پڑھتا ہے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہی مذہبی کتاب یا دستاویز پڑھی جاسکتی ہے۔ یہ دوسرا طریقہ وہ لوگ اختیار کر تے ہیں جو مذہبی ادب کامطالعہ کر تے ہیں ۔ یہاں ایک فرد دوسرے فرد کی مقدس کتاب پڑھ سکتا ہے لیکن اسکے لئے مختلف رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاںمطالعہ اس طریقے سے نہیں ہوتا جیسا کہ کوئی اپنی مقدس کتاب کا کرتا ہے یہاں مخصوص روحانی معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ انکے لئے کسی کی مقدس کتاب ٹھنڈی ، ناپسندیدہ ،تو اہماتی اور بدعتی بھی ہو سکتی ہے۔ اسکے لئے نہ روشن خیال ادب ، عجیب وغریب قصے یا عمدہ شعریت ہوتی ہے۔ کسی دوسرے شخص کا مذہب یا مقدس کتا ب کا مطالعہ کرتے وقت خیالات میں اتنی برداشت لانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس شخص کی ضروریات اور مجبوریاں سمجھی جاسکیں اسلام کے بیرونی پہلو، عیسائیت کے مسافر کے رواجات کا خیال رکھیں ۔ H. Fielding اپنی کتاب Hearts of Men میں لکھتا ہے ۔جاو اور مسلمان کیساتھ گھنٹوں کے بل جھکو جیسا کہ وہ سورج کے غروب ہوتے وقت عبادت کرتا ہے ۔اپنا دل اسکی طرف لگائو اور گونج کا انتظار کرو جو یقینا سنائی دے گی۔ یہ بیرونی اہمیت کا اندرونی انداز ہے۔ مذہب میں پایا جاتا ہے اور تمام متبرک مصحف میں یہ سچ ایک مذہب پر کا ربند شخص کو جو یقین وایمان سے ہیجان اور حمد وثنا کے دوران جو سکوں حاصل کرتا ہے۔ یہ اسکے اپنے رویہ پر مبنی ہوتا ہے ۔یہ سوال بیک وقت مشکل ہے ایک شخص اپنے آپ کو بدھ ، مسلمان ، عیسائی براہمن یا کنوفیشس بناتا ہے اگر چہ کہ تمام مذاہب میں کچھ رویے ایک جیسے نہیں ہیں لیکن کچھ خصوصیات تمام مذاہب میں یکساں ہیں۔ ایک مذہب کو بلا تعصب انسانیت کے لبادے میں پرکھا جا سکتا ہے ۔اسی طرح اسلام بغیر عیسائی بنکر سمجھا جا سکتا ہے ۔ Fielding کہتا ہے۔ ’’ تم جو بھی کر و کوئی بات نہیں ۔ یقین و عقائد پر کچھ بھی نہ گزرے گی۔ اگر تم سننے والے کا ن رکھتے ہو۔ اگر تمہارا دل دنیا سے ہم آہنگ دھڑکتا ہے تمہیں ایک ترانہ سنائی دے گا اور تم آفاقیت سے ہمکنار ہوگے، لیکن ڈریہ ہے کہ سچ کو سمجھنے میں مشکل در آتی ہے۔ کچھ سال پہلے شکاگو میں ایک بڑا مذہبی اجتماع ہوا ،جس میں یہی درس دیا گیا کہ تمام مذاہب ایک جیسے اچھے اور سچے ہیں۔ بنیادی انصاف اور تمدن کے اصول ان میں برابر ہیںمگر کہیں بھی مذہب کو ایک دوسرے کے برابر چلنا نہیں آیا۔ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کو غلط تصور کر تے ہیں۔ اگر چہ کہ جملہ مذاہب ان ضروریات کے پیش نظر وجود میں آئے جو بنیادی تھیں ۔اس اصول کے تحت ایک مذہب دوسرے مذہب کی بہتر اور ممکن مدد کر سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا یہاں تقابلی فضا قائم ہے اور ہر مذہب خود کو خدا کے نزدیک اور اسکی عنایات کے مستحق سمجھتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر عام معاملات میں جو تمام مذاہب میں یکساں ہیں ،پر اکتفا کیا جائے تو مذہب اپنی انفرادیت کھو دے گا اور شاید پھر کوئی مذہب نہیں رہے گا ۔ پھر کچھ مخصوص اور مشترک ضروریات ہی رہ جائیں گی ۔ مذہب معاشرے اور فرد کو مضبوط کرتا ہے۔ جداگانہ حیثیت رکھتے ہوئے بھی انسانی معاشرے کا امیں ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس کے رویہ کو نشوونما کی ضرورت ہے ۔
قدرت بمقابلہ مثبت مذہب
ہر شخص آگاہ ہے کہ جدید سوچ پرانے رجحان کے خلاف احتجاج کے طور پر ابھر ی۔ ا س کی وجہ حاکمیت ، روایت اور فرسودگی سے بغاوت تھی ۔ جسکی پہلی مشق فزکس اور مابعدالطبیعات کے مطالعہ سے ہوئی۔ ایک صدی پہلے Hobbes اس کا بانی تھا اور سماجی انقلاب کا اسے مصنف کہا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ چار چیزیں ،جنات یا ماورائی مخلوقات پر یقین ، نظر یہ زندگی کے بارے میں لاعلمی ، خوف اور شگون یا پیش گوئیاں ہی وہ وجوہات تھیںجن سے مذہب کا بیچ بویاگیا اور یہ مختلف رسومات کی شکل میں ابھر یں۔ اگرچہ کہ یہ دوسرے انسانی گروہ کے نزدیک مضحکہ خیز بھی تھیں۔ Hume (1755) ؁ The natural history of religion میںلکھتا ہے کہ شرک(بہت سے خداوئںپر یقین) ہی مذہب کی اصلی حالت ہے ۔ مذہب کا پہلا خیال فطرت کے مطالعہ یا غور و فکر کا نتیجہ نہیںبلکہ یہ زندگی کے واقعات ، مسلسل خوف اور امیدیں تھیں جنہوں نے انسانی ذہن کو اکسایا۔ خوشیوں کیلئے ترغیب، مستقبل کی امیدیں ،موت کا خوف ا،نتقام کی پیاس، بھوک اور دوسری ضروریات کی طلب ہی وجوہ تھیں جنہوں نے مذہب کی بنیاد ڈالی۔ انسان کا خوف قسمت کی خواہش ، امید اور اسکی بھلائی کیلئے ایک قوت کا ر فرما نظر آئی ۔
مذہب کا تقابل
Hume کی تصنیف Natural History of Religion نے دوسمتوں کا تعین کیا ہے۔ پہلی سمت تاریخ اور ارتقا پر زور دیتی ہے ۔انسانی ذرائع،گونا گون چیزوں کی اقسام، دوسری سمت مذہبی مبلغین ، سیاح اور حال ہی میں علم البشریت اور نسلی تاریخ، مذہبی ادب ،ہندوستان، چین، جاپان اور دنیا کے تمام حصوں میں مذہبی رواجات ، قدیم باغی لوگ اور فن تعمیر سے آگاہی عطا کرتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں زبانوں کے علوم ہیں ۔ سنسکرت کا مطالعہ پرانے ہندو ازم کو سمجھنے میںمدد دیتا ہے۔ مقدس تحریر یں، تصاویر اور نقش مصر Baylonia اور Assyria کے تاریخی ادوار کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس مادی دولت کے حصول نے مذہب اور اسکے ارتقاکے عمل کو سمجھنے میںمدد دی ہے۔ اس ضمن میں Max Muller، Spencer, Tylor اور Frozer کو انسانی علوم کی علامت کہا جاسکتا ہے اور یہاں مذہب، آفاقی انسانی مفادات اورزندگی کے پہلو وںکا غیر جذباتی اور تجرباتی مطالعہ ہے ۔ انیسویں صدی کے اختتام پر سائنس اور نفسیات نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور Hume کے Natural History of Religion کے ایک اور پرت سے پردہ اٹھایا جسے مذہب کی نفسیات کانام دیا گیا۔ یہاں مذہب کے ضمیر ، جبلت ، جذبات ، خوف اور عزت، و قار کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ مذہبی نفسیات کی دواقسام ہیں جیساکہ James بیمار روح اور صحت مند دماغ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے ۔یہ پر اسرار تجربات کا مفصل تجریہ ہے۔ جس میںخاص ربط ، لاتعلقی خصوصی معیار اور خاص اہمیت ہے۔ یہاں یا تو مذہب کی بیمار نفسیات یا طاقتور سماجی قوت کی کار فرمائی نظر آتی ہے لیکن Habbes اور Hume دونوں نے اس کو مذہب کی روح قرار دیا ہے جس کی اقسام اندرونی یا بیرونی طور پر رواجات، عقائد اور ذہنی معیار کا مشترک کردار ہے۔ یہاں مذہب انسانی خوف اور اسکی قسمت پر فطرت کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا ردعمل ہے لیکن مذہبی نفسیات کے مطالعہ نے مذہبی فلاسفی کو جاننے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
مذہب کی ابتدا
وہ کیا آفاقی وجوہات تھیں ۔ جب مذہب کا وجود رو نماہوا ۔ اتفاق سے یہ ایسی حقیقت ہے جو انسانی فطرت سے متعلق ہے ۔یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی جبلت اور صلاحیت کا حاصل ہوتا ہے، جسے دوسرے لفظوں میں مذہبی ضمیر کا نام دیا جاتا ہے جس میں خدا کا تصور اور ذہنی دستور جو کائنات کے بارے وضع ہوتا ہے۔ حیات و ممات اور کائنا ت کے بارے میں کوئی نظریہ یا نصب العین حتمی نہیں ہے۔ مذہب کی ابتدا کی بابت غور کر نے سے پہلے انسانی ضمیر ، صلاحیت ،جبلت اور ماحول کو مدنظر رکھنا ضر وری ہے ۔ انسان نے نیند کے دوران خواب میں جن چیزوں کو دیکھا ہے،یا بعداز موت ایسے ہونے یا کرنے پر یقین کیا جیسے کہ ما بعد الطبیعات کا نظر یہ ہے۔ خدا کا تصور ہے ،ماحول کے مطابق بڑے مظاہر سے وجود میں آیا جیسے سورج ، سمندر اور انسان نے اسے تخلیق کنندہ اور قوت کا سر چشمہ قرار دے کر عبادات کے طریقے ایجاد کئے۔ فطرت کے خلاف نبرد آزما، جذبے نے بھو ت پر یت کا تصور اجاگر کیا۔ وہ امور جہاں انسان اپنی تمام صلاحیتوں اور قوتوں کے باوجود بھی قابونہ کر سکا۔ ما ورائی مخلوق سے پہچاننا شر وع کر دیاگیا۔ cheests کا تصور اجاگر ہوا۔ قسمت خوف اور تجسس نے عقلی طور پر انسان کو تحفظ دینے کیلئے ایسا کرنے پر مجبور کیا ۔ خدا کا تصور ، مادی ، غیر مادی اور محلول اشکال میں ظاہر ہوا ہے ۔خوف و خواہشات کے پردوں میںلپٹا ہوا ،مذہبی ڈھانچہ تاریخی تجربات سے نشونما پاتا اپنی منازل طے کرتارہا ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ابتدائی دور میں مذہب کے ظہور سے پہلے بھی فطرت کی ناموافق قوتوں سے برسر پیکار رہا اور آزادی سے زمین پر گھوما پھرا ۔اپنی ضروریات حاصل کرتا رہا۔ ایک انسانی گروہ مذہب کے بغیر بھی دوسرے کو کنٹرول کر تار ہا ۔ کہیں انسان نے اس ضمن میں خود کو دھوکا تو نہیں دیا یا اس تلخ سبق سے اس نے فائدہ ہی اٹھانا چاہا ہو ۔ اگرا س نے زندہ رہنا ہی تھا تو مایوسی سے یا ناکامی سے اس کو کیا واسطہ ہوسکتا ہے ۔تخیلاتی ارتقا نے کمال بلندی کی منازل طے کرنے کیلئے ایسا ہی ڈھانچہ تیار کیا جو اپنے محور پر قائم نہ رہ سکا اور اس میں بیرونی عوامل ، تقدس ، حالات اور واقعات نے اس کی شکل بگاڑدی ہو اور یوں سلسلہ آگے چلتا ر ہا جو اپنی اصلیت کا سراغ نہ لگا سکتا ہو ۔

دیوتا / دیوی کی اقسام
عبادات اور پو جا پاٹ کی عام اشیاء میں فطرت کے نمایاں پہلو آسمان ، سورج ، چاند ستارے ، زمین سمندر دریا ،ہوائیں ، موسم دن اور رات میں سائنس کی ترقی سے قبل انسان کو ان مظاہر کے بارے میں علم نہ تھا اور نہ اس عوامل کے بارے کوئی واضح پیش گوئی کر سکتا تھا کہ آئندہ یہ اسکے حق میں مفید ہونگے یا نقصان دہ ہونگے ۔ وہ صرف امید اور دعا کرسکتا تھا گویا پوجا پاٹ ناگزیر تھی ۔ جس چیز کی تسخیر ممکن نہ ہوئی اس نے ایک بر تر مقام پایا۔ سورج برکت یا تباہی کا سر چشمہ ٹھہرا۔ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے ۔وہ قوت جو نفع یا نقصان کی صلاحیت رکھتی ہے اسے مقام حاصل رہتا ہے۔ لہذا قوتوں کے یہ فطری سرچشمے اولین دیوتا یا دیویاں ٹھہرے ۔ دوسرے درجے کے دیوتایا دیویاں آبائو اجداد ٹھہرے جیسا کہ چینی مذہب میں اسلاف کی پوجا کی جاتی ہے۔ ان میں وہ جانور بھی شامل ہیں جنہیں اپنے طور پر یا آبا و اجداد کی طرف کوئی نسبت تھی ۔ تیسرے درجے کے دیوتا یا دیوی وہ تھے جنہوں نے کو ئی خاص خدمات انجام دی ہوں یا قومی قبائلی بچائو اور مصیبت سے نجات دلائی ہو ۔یہ خدمت جنگی سماجی ، سمندری یا معاشی ہوسکتی تھی اور یہ سلسلہ نسل درنسل بھی سفرکرتا رہا ۔
قطع تعلقی کا مذہبThe religion of renmication وہ مذہب ہے جس میں دنیا سے تقریبا ً دستبرداری یا قطع تعلقی ہے ۔یہ ہندوستان کا فلسفیانہ یا مخفی مذہب ہے۔ اس مذہب کی تمام بنیادی اقسام زندگی کے بارے میں ایک ہی نظر یہ رکھتی ہیں کہ لگا تار کوشش سے کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ خواہشات کی تکمیل نا امیدی ہے ۔ ظاہری ناکامی حقیقی ناکامی نہیں ہوتی لیکن کامیابی کے غلط معیار کو اپنانا ناکامی ہوتی ہے ۔ ’’Upanishads ‘‘ کی تعلیمات کے مطابق علیحدہ انفرادیت خواہشات کا دھوکا ہے ۔ جب تمام جذبے آرام کرتے ہیں خواہشات دل میں گھات لگاتی ہیں ۔فنا کوئی فنا نہیں ہے ۔ برہمن ہی اصل ہے ۔ برہمن میں دنیا کا گہرا اتحاد ہی فرد کو زندگی دیتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے ۔خدا کا تصور مذہب کی بنیادیا جڑ نہیں ہے بلکہ خدا مذہب کی پیدوار ہے۔ بدھ مت کے مذہب میں خدا کا تصور نہیں ہے یہ حقیقت ہے کہ مہاتی بدھ بھی کنوفیشس کی طرح کا مذہب رکھتا ہے جس میں وہ خود کو متبرک یا دیوتا نہیں سمجھتا ۔ روح پھر زندگی پاتی ہے ۔ دنیا دکھوں کا گھر ہے ۔زندگی خواہشات کا گھر ہے۔ دوبارہ چشم ہندوستان کا مذہب دنیاوی لذائز سے کنارہ کش رہنے کی تعلقین کرتا ہے مذہب کو سمجھنے کیلئے ا س کے گہرے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو کیا دے رہا ہے۔ کیا اثرات مرتب کررہا ہے کہ اسکا تعلق سائنس فن شاعری یا کسی اور فکر سے ہے۔
عظیم دیوتا / دیوی کا تصور
ان سب دیوتا ئوں کے تصورت سے ایک تصور جس کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ وہ عظیم دیوتا کا تصور ہے جب انسان نے ذہانت وعقل خیالات اور سماجی معاملات میں ترقی کی تو ایک عظیم دیوتا جو سب سے برتر ہے اور لائقِ حمد ثنا ہے، کا وجود مانا گیا۔ یہ تصور، تجربات اور فطرت کی بعض قوتیںبعض قوتوں کی ماتحت ٹھہریں۔ Zeus یونانیوں کا خدائے بزرگ تر ہے ۔ یہاں خدائوں کے مراتب پیر شاہی نظام کے مترادف ٹھہرے ۔ عظیم دیوتا کی پہچان اس کی صفات سے ٹھہر ی۔ وہ کام جو انسان کی وسعت سے باہر ٹھہرے وہ عظیم دیوتا کے اختیار میں سمجھے جانے لگے اور اسطرح مذہب اور حکومت کے مناسب درجہ بدرجہ دیوتائوں میں تقسیم ہوگئے ۔ عظیم دیوتا یا خدائے بزرگ تر کا تصور مذہب کے بنیادی اشتراک ، تعلیم کا ذریعہ اور مشترک انسانی اصولوں کی ترویج کا باعث بنا ۔
مذہب اور سائنس
سائنس ایک مربوط اور آزمودہ علم کا نام ہے جسکی روسے کسی عمل یا شے کو پر کھنے کیلئے تجربات کو جتنی بار دہرایا جاتا ہے ایک ہی مطلوبہ نتیجہ برامد ہوتا ہے، اس علم کی روسے دیگر علوم کو سمجھنے کیلئے ٹھوس شواہد موجود ہوتے ہیںجبکہ مذہب محض عقائد اور نظریات کا مرکب ہے ۔کسی خاص علاقہ ، ماحول یا وجوہات کی بنا پر اسکے اصولوںسے متوقع نتائج برامد تو ہوسکتے ہیں لیکن ان اصولوں کو حتمی نہیں کہا جاسکتا ۔ مذہبی اصولوں کے متوقع نتائج، اخلاقیات ،روایات اور عادات کے مرہون ہوتے ہیں جو جگہ مقام کے ساتھ قابل تسخیر ہوتے ہیں دیگر یہ کہ وقت کے ساتھ ان اصولوں کی ماہیت ، اصلیت اور انفرادیت میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، جبکہ سائنسی اصولوں کے ساتھ ایسا ہر گز نہیںہے ۔ لیکن وہ عقائد جن کو سائنس نے واضح طو ر پر جھٹلایا ہے۔ مذہب برابر انکے راست ہونے کی تائید کرتا ہے یا یوں کہے کہ وہ سائنس کے برآمدہ نتائج کو ماننے پر تیار نہیں ہے ۔ چودہویں صدی عیسوی میں جب Catlalic نے غلبہ پایا ۔ عیسائی تعلیمات کے بعد اسے اہمیت دی جانے لگی جیسا کہ Janah اور Whale کی کہانی کے باب پیدا ئش میں ہے یا عہدنا مہ جدید ( انجیل)کے وہ معجزات ہیں جو محض علامات ، روایات ، شاعری یا عقائد کے نظام کا ایک حصہ ہیں۔تمام کے تمام کو تاریخی اہمیت سے جانچا جاتا ہے۔ ہم ان عوامل یا ضروریات پر غور نہیں کرتے جن کی بنا پر مذہب ظہور میں آیا۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب میں سچائی کے عنصر موجود ہیں اگر وہ تمام لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے لیکن جب وہ حقیقت سے گریزاں ہوتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا تاہم مذہب میں کوئی سائنسی عنصر شامل ہوسکتا ہے ۔ لیکن وہ بہت کم ہے۔ مذہب سائنسی علوم او رمعلومات سے مطلق انکار کرتا ہے لیکن وہ کائناتی نظام میں بھی دلچسپی رکھتا ہے اور ان سے انسانی قسمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ مذہب کے اندازے یا فیصلے کا ئناتی نظام کے بارے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ محض امیدیں ، خوف ، اعتماد و اعتکادات ،مایوسی ، تکریم و وقار ، تشکر اور محسوسات ہیں، بالخصوص Pslams یا St. Augustine confessions محض خطابات ہیں جو یقین رکھنے والے کیلئے خصوصیات کے حامل ہیں۔
مذہب میں دوسرا عمل جوا سے غیر سائنسی بتاتا ہے ،یہ ہے کہ مذہب تفصیلات اور سماجی روایات کا مرکب ہے اور اس Theory یا نظریہ پر ہر گز یقین نہیںرکھتا جو اس کے بعد پیدا ہوا ہے ۔ یہاں پر مذہب کو مزید نشوونما کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر اس نے ساتھ چلنا ہے۔مہاتمہ بدھ نے اس وقت نروان کا فلسفہ متعارف کرایا جب فرد نظم و ضبط کی زندگی میں داخل ہو رہا تھا ۔ عیسائیت نے اس وقت آغاز کیا جب فرد عبادات اور اچھے کاموں میں نجات سمجھتا تھا ۔ اسطرح تمام مذہب میں ان ادوار کی سماجی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ ایک اور اہم وجہ کہ مذہب اور سائنس میں بڑا اختلاف ہے ،یہ ہے کہ مذہب ہمیشہ شواہد سے دور رہا ہے۔ نہ کبھی مذہب نے کوئی سائنسی نظریہ اپنایا ہے اور نہ کبھی اپنائے گا ۔ مذہب کی مثال محض اندھیرے میںچھلانگ لگانے کی سی ہے مزید روشنی کی امید میں ۔ یہاںیہ کہنا ناگزیر ہے کہ مذہب کا وجود سائنس میں ناقابل برداشت ہے ۔
مذہب اور اخلاقیات
ایک مزید عنوان جو تعارف چاہتا ہے یہ کہ مذہب اور اخلاقیات کا آپس میں کیا تعلق ہے اخلاقی تعلیمات کی ہم قدر کرتے ہیں۔ کنفوشس کا مذہب، یہاں مذہب کے ابتدائی خدوخال اور پیدائش کو ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ طرز ندگی نے مذہب کا رنگ دھارا جب یقین اچھے بُرے فالوں پر آٹھہرا ۔ یہاں اس نے کائناتی نظام کے بارے میں غور فکر کیا اور نجات کا راستہ تعین کیا ۔اگر انصاف کی سماجی فلاح کیلئے تعریف و ستائش کی جائے تو یہ اخلاقیات تصور ہوگی ۔ اگر اسے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنایا جائے تو اسے نروان حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھا جائیگا ۔ مذہبی کردار میں اخلاقی قدریں نجات کیلئے مختص ہیں۔ مذہب میں اخلاقی روح امیدا افزا ہوتی ہے اور عروج کی راہ پیدا کرتی ہے جس کی منزل فتح اور نجات دونوں ہیں۔اخلاقیات کوئی مطلق اصطلاح نہیں ہے۔ یہ مقامی یا علاقائی بھی ہوسکتی ہے ۔ جو وقت اور فاصلے کے ساتھ تغیر پزیر ہے ۔ تاہم بین الا قوامی اخلاقیات جو ساری انسانیت کیلئے ایک جیسی تصور ہوتی ہے کون و مکان کی پابند نہیں ہوتی ۔ مذہب میں اخلاقی قدریں اور اخلاقی شعور نجات کی راہ سمجھا جاتا ہے ۔سیدھا راستہ پر اعتماد ، حوصلہ افزا اور کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ قنوطیت پسند مذہب میں بھی اخلاقی قدریں وجود کو خستہ حالی سے نجات دلانے کا یقین دلاتی ہیں لیکن اخلاقیات کا پیدا کر دہ تقدس مرتبت کی بنیاد ڈالتا ہے لیکن یہاں مذہب دو طرح سے اپنے اندر آفاقیت رکھتا ہے ۔ ایک آفاقی ضروریات کی تکمیل کیلئے اور دوسرا آفاقی انسانی قدروں کے امین کے طور پر۔ اگر کہ اس میں غلطی کے امکانات اور تیرگی بھی شامل ہوتی ہے تاہم یہ زندگی کو بلند اور شان و شوکت عطا کر تا ہے۔ جھوٹے مذہب سے سچا مذہب بہترہے لیکن اس یقین میں بھی گنجائش نہیں۔لا دین رہنے سے مذہب انتہائی بہتر ہے ۔

2016 - منصور آفاق